وزیرداخلہ سے اعلیٰ سطحی وفدکی ملاقات ،امن کی بحالی سرکارکی اولین ترجیح
نئی دہلی، 22؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزیرِ داخلہ راجناتھ کی جانب سے جموں و کشمیر میں ماحول کو پرامن بنانے کیلئے سنجیدہ کوششیں مسلسل جاری ہیں ۔ آج وزیر داخلہ نے سیاست اور صحافت سے وابستہ ان شخصیات سے ملاقات کی جو جموں و کشمیر کے حالات کو بہتر ڈھنگ سے جانتے ہیں ۔ساتھ ہی اس میٹنگ میں کشمیر سے وابستہ معزز لوگ بھی موجود تھے ۔ ایگری کلچر ٹوڈے گروپ کے ڈائریکٹرڈاکٹرایم جے خان کی قیادت میں گئے وفد میں سینئر صحافی قمرآغا، شاہد صدیقی ، سنجیو شیراف، اشوک بھان، ظفر الاسلام سمیت متعدد لوگ موجود تھے ۔ اس موقع پر لوگوں نے اپنی جانب سے بحالی امن کے لئے تجاویز پیش کرتے ہوئے مرکزی سرکار کو بڑے دل سے بڑے فیصلے لینے کی اپیل کی ۔ میٹنگ میں شریک کچھ لوگوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے پاس ایک بڑا فائدہ ہے اگر وہ انڈیا کا جھنڈا نہیں اٹھا سکتے ہیں تو ان کے پاس کشمیر کا اپنا جھنڈا ہے ، لیکن وہ پاکستان کا جھنڈا ہرگز نہ اٹھائیں ۔ میٹنگ شرکاء نے ایک بار پھر پلیٹ گن کے استعمال پر روک لگانے کی بات کہی ۔ میٹنگ میں شریک لوگوں نے ا س بات کا مطالبہ کیا کہ ریاست کے بچے ہندوستان سے جڑا ہوا محسوس کریں اس کے لئے کچھ خصوصی اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیم کے میدن میں طلبا کو میرٹ کی بنیاد پر یا دیگر کسی بنیاد پر سرکاراسکالر شپ دے ۔ میٹنگ میں شریک لوگوں نے جموں و کشمیر میں امن بحالی کے معاملہ میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی ستائش کرتے ہوئے سرکار سے اپیل کی کہ سرکار اس بات کو یقینی بنائے کہ جو لوگ زخمی ہوگئے ہیں ان کو فوراً دہلی لاکر ان کا علاج کرایا جائے اور علاج کیلئے اگرہوائی سفر کا انتظام کردیا جائے تو بہتر ہوگا۔ شرکاء نے حریت کے لوگوں سے بات چیت کرنے کی بات بھی کہی ۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں علماء کے ایک ایسے وفد کو کشمیر بھیجا جائے جس کے کشمیریوں سے بہتر روابط ہوں اور اگر وہ جاکر امن بحالی کے لئے کام کرتا ہے تو ماحول سازگار ہونے کی زیادہ امید ہے ۔لوگوں نے یہ بھی کہاکہ اس وقت بلا کسی چوں وچرا کے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے ماحول پر امن ہو۔ شرکاء نے جن کے اہل خانہ کی موت ہوگئی ہے ان کو معاوضہ دینے کی اپیل بھی کی اس کے علاوہ کئی اور اہم ایشو ز پر بھی لوگوں نے وزیر داخلہ سے بات چیت کی ۔
وزیر داخلہ نے تمام ایشوز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے کل ہی ملک کی دیگر ریاستوں کے طلبا سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر ی بچوں کے ساتھ پیار ،محبت اور انسانیت کا معاملہ کریں اور ان کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ جہاں تک زخمیوں کو علاج کے لئے دہلی لانے کی بات ہے تو میں اس کے لئے جہاز بھیجنے کو تیار ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ میری شروع دن سے کوشش ہے کہ ریاست میں امن کا ماحول قائم ہو اور اس کے لئے میں سڑک سے سنسد تک ہر سطح پر بات چیت کررہاہوں جس کی لوگوں سے ستائش بھی کی۔ وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ پیلٹ گن کے استعمال پر سختی سے روک لگانے کی بات کہی گئی ہے ۔ انہوں نے آج ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیاکہ جموں و کشمیر ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکار ریاست کے نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے ہر ممکن کوشش اور اقدامات کررہی ہے اور اس کے لئے روزگار کے مواقع کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں کئی اہم مواقع پیدا کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ریاست میں امن کی بحالی کے لئے سرکار ہر ممکن اقدامات کررہی ہے اور امن بحالی کے لئے آنے والی تمام تجاویز پر سنجیدگی سے غور بھی کررہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ جو نقصان ہوگیا ہے سرکار اس کی بھرپائی کی پوری کوشش کرے گی اور متاثرین کے زخم پر مرحم رکھنے کی پوری طرح سنجیدہ کوشش کرے گی۔